کراچی مسائل کا گڑھ

ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے جسے بجلی ، گیس، پانی، ٹرانسپورٹ، کچرا اٹھانا وغیرہ لیکن کراچی میں ایسا نہیں ہے کوئی بھی ان ذمہ داریوں کو قبول کرنے تیار نہیں ہے سب ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈالتے ہیں اور ایسا ہوتے ہوتے کراچی تباہ حال ہو گیا آخر اس کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے یہ سوال ہر کوئی ایک دوسرے سے پوچھتا ہے لیکن اس کا جواب کسی کو نہیں معلوم ۔کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے کراچی اپنی تمام تر خوبیوں اور رعنائیوں کے باوجود مسائل کا شکار ہے نہ صرف مسائل کا شکار ہے بلکہ اس کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے وجوہات تو کئی ہیں لیکن اصل وجہ بے سرو سامانی ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے یہ شہر صنعت وتجارت اور روزگار کا سب سے بڑا مرکز ہے لوگ روز گار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں روز گار تو مل جاتا ہے لیکن پانی ، بجلی، گیس سے محروم رہتے ہیں کراچی کی تباہی ایک دو سال میں نیں ہوئی بلکہ کراچی کو تباہی کے دہانے تک لانے میں کئی سال لگے ہیں کراچی کی بد قسمتی ہے کہ یہ شہر ہر حکومت میں سیاست کی نظر رہا ہے اور ہر حکومت نےاس کو سیاسی اختلاف کی وجہ سے نظر انداز کیا ہے کبھی کسی حکومت نے کام نہیں کیا ہے کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور پاکستان کا سارا معاشی دارو مدار کراچی پر ہے پاکستان کی ساری تجارت کراچی پورٹ سے ہوتی ہےاس لیے کراچی کی اہمیت دوسرے شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔کراچی کو معاشی اعتبار سے تو اہمیت دی جاتی ہے لیکن اس کے مسائل پر توجہ نیں دی گئی اس وجہ سے یہ مسائل کا گڑھ بن گیا ہے اب تو کراچی کو دنیا کے بد ترین ٹرانسپورٹ سٹم کے حامل شہر کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ ●کراچی کے مسائل اور احتجاج۔

بجلی کا مسئلہ اور احتجاج۔

کراچی میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نیا نہیں ہے پہلے لوڈشیڈنگ کم ہوتی تھی اب زیادہ ہوتی ہے اور اس کا مسئلہ حل ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آرہا ہے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور اسد عمر نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی لیکن پھر بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور پوری گرمیاں کراچی کے شہری لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دو چار رہے ۔کراچی میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ کراچی کے شہریوں کا مطالبہ▪

کراچی کے شہریوں نے اوور بلنگ اور بجلی کی بندش پر وفاق اور سپریم کورٹ سے کے الیکٹرک کے معاملات پر نوٹس لینے پر زور دیا ہے۔

اکتوبر 2020۔13

سندھ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی۔

●اور بلنگ کا مسلہ : کے الیکٹرک نے اوور بلنگ کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا ہے جس سے کراچی کی عوام پریشان ہے ۔ ●گورنر سندھ : نے کے الیکٹرک کی زائد بلنگ آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ●سیاسی جماعتوں کا احتجاج: عوام کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے بھی کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کیا تھا جس میں جماعت اسلامی ، پاک سر زمین پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم شامل ہیں۔کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف سب متحد ہو گئے لیکن کے الیکٹرک کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور احتجاج بھی کام نہ آیا اور کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جوں کی توں رہی۔

●گیس کی بندش کا مسئلہ۔

کراچی میں گیس کی بندش بھی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگ احتجاج کرتے نظر آتے ہیں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی گیس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔

پانی کا مسلہ۔

کراچی میں پانی کا مسلہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کراچی کے زیادہ تر علاقوں میں پانی نہیں آتا پہلے کراچی میں چند علاقوں کے علاوہ پورے شہر میں پانی آتا تھا اب یہ حال ہے چند علاقوں میں پانی آتا ہے اور پورے شہر میں پانی کی عدم فراہمی ہے ۔پانی کی قلت کی وجہ سے کراچی کے شہری کو سخت گرمی میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور وہ مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں کراچی میں پانی کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ہر روز 200 سے 300 ٹینکر شہر کے مختلف حصوں میں پانی مہیا کرتے نظر آتے ہیں۔کراچی میں پانی کی قلت کی وجہ سے کئی ملین رہائشی مسائل کا شکار ہیں۔

ٹینکر مافیا۔

کراچی میں ٹینکر مافیا کی حکمرانی ہے اب کراچی کے رہائشیوں کے لیے مفت پانی خواب ہو چکا ہے کراچی میں پانی بیچنے والے گروہ نہایت منظم ہیں اور لوگوں کو پینے کا پانی بیچ کر پیسہ بنانے میں مصرف ہیں۔

کچرے کے ڈھیر۔کراچی کی آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے اور شہر سے روزانہ 15 ہزار ٹن کچرا نکلتا ہے جس میں سے 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا اٹھایا جاتاہے ۔کراچی میں صفائی کا مسئلہ بد انتظامی کا نتیجہ ہے شہر میں کچرے کو تلف کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں۔کراچی کے شہری اس گندگی سے بھی پریشان رہتے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔ ہر بڑے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گھر سے دفتر جانے ، مزدور ، کارخانوں میں کام کرنے والے عرض کہ ہر وہ شخص جس کے پاس اپنی ٹرانسپورٹ نہ ہو وہ بس میں سفر کرتا ہے اور یہ ان لوگوں کا روزانہ کا معمول کا حصہ ہوتا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں صرف بیس ہی نہیں شامل ہوتیں بلکہ ضرورت کے مطابق دوسرے متبادل بھی ہوتے ہیں۔کراچی ایسا شہر ہے جہاں پر لوگ روزگار کی تلاش میں آتے ہیں کراچی کی آبادی کا بڑا حصہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور ان کی آمدورفت کا ذریعہ پبلک ٹرانسپورٹ ہوتی ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے ٹرانسپورٹ کے مسائل اور ان کے حل کے لیے حکومت نے کوئی عملی اقدامات ابھی تک شروع نہیں کیے ہیں ۔کراچی کی 2 کروڑ سے زائد آبادی ہے ۔اور ان کی سفری سہولیات کے لیے ٹرانسپورٹ کی موجودہ تعداد بہت ہی کم ہے ۔کراچی کی سڑکوں پر مزدا ، بس اور کوچز نظر آتی ہیں اور لوگ اسی کو ترجیع بھی دیتے ہیں اس ٹرانسپورٹ کے مسافر طلبہ و طالبات بھی ہوتے ہیں ۔گنجائش سے زیادہ سواریاں ہوتی ہیں جب بس بھر جاتی ہے تو بسوں کئ چھت پر بھی لوگ سفر کرتے ہیں ۔ 12 سال سے صوبہ سندھ میں پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے انھوں نے کئی بار کہا ہے ہم نئی بسیں لا رہے ہیں انھوں نے یہ وعدے تو کیے ہیں لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔

27اکتوبر کشمیریوں کا یوم سیاہ

●ہری سنگھ 1925

ہری سنگھ 1925 میں گدی نشین بنا جسے قادیانی حمایت حاصل تھی اور یہ مسلمانوں کا دشمن تھا ہری سنگھ اس ڈوگر خاندان سے تعلق رکھتا تھا جو گزشتہ سو سال سے مسلمانوں پر ظلم وجبر کرتا چلا آرہا تھا ۔کماتے مسلمان اور کھاتے ڈوگر حکمران تھے۔ ●1929میں شیخ عبداللہ نے ریڈنگ روم تنظیم اور اے آر ساغر نے ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن بنائی ۔ ●1931 میں علامہ اقبال کی سرپرستی میں مسلمان وفد مہاراجہ ہری سنگھ اور اس کے وزیر اعظم ہری کرشن کول سے مذاکرات کے لیے ملے جو کہ ناکام ہوئے سیالکوٹ سے کشمیر چلو ، کشمیر چلو تحریک شروع ہوئی اس طرح تحریک آزادی کشمیر 1931 میں مکمل شروع ہوئی۔

●پہلی مسجد شہید

1931میں پہلی مسجد ریاستی میں شہید ہوئی کوٹلی میں نماز جمعہ پر پہلی بار پابندی لگائی گئی ایک ہندو نے قرآن کی بے حرمتی کی عبدالقادر نامی مسلمان نے احتجاج میں جلسے کیے جس پر وہ گرفتار ہوا ۔پھر مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا 13 جولائی کو شہدائے کشمیر اسی قتل عام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ●1933 میں جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد 1933 میں سری نگر پتھر مسجد میں جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی ۔شیخ عبداللہ اس کے صدر اور چوہدری غلام عباس اس کے جنرل سیکرٹری بننے ۔

●برصغیر میں آزادی کی تحریکیں

برصغیر میں جیسے ہی آزادی کی تحریکیں شروع ہوئیں تو مسلمان بھی قائداعظم کی قیادت میں ایک علہیدہ ملک کے قیام کے لیے سروں پر کفن باندھ کر میدان میں آگئے ۔اس موقع پر پاکستان کے قیام کے لیئے کشمیر کے مسلمانوں نے بھی تاریخ ساز قربانیاں دیں۔ ●27 اکتوبر بھارت کا قبضہ وحملہ

27 اکتوبر وہ سیاہ دن جب بھارت نے ریاست جموں کشمیر پر قبضہ وحملہ کے لیئے فوجیں داخل کی تھیں تقسیم ہند اور ریاستوں کے الحاق کا جو فارمولہ واضع کیا گیا تھا اس کی رو سے ریاست جموں کشمیر کا الحاق صرف پاکستان سے ہی ہو سکتا تھا اس لیئے کہ ریاست کی اکثرتی آبادی مسلمان تھی ریاست کے باشندوں کے جغرافیائی ولسانی رشتے ناطے بھی پاکستان سے ملتے تھے سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ریاستی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ اعادہ کر چکی تھی ۔انگریز و ہندو جو پاکستان کے معاملے میں پہلے ہی بد نیت تھے ۔انھوں نے جموں کشمیر پر حملے اور قبضے کا فیصلہ کر لیا۔

27 اکتوبر 1947 کو رات کی تاریکی میں بھارت نے اپنی فوج جموں کشمیر میں داخل کر دی مہاراجہ ہری سنگھ نے خود گولی چلا کر کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کا آغاز کیا جیسے ہی بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموں کشمیر میں داخل کیں کشمیری مسلمان ڈنڈے ، پرانی بندوقیں اٹھائے میدان جہاد میں کود پڑے اور تمام تر ظلم کے باوجود نہتے کشمیریوں نے ہزاروں بھارتی فوجیوں ٹینکوں ، طیاروں ، توپوں اور رائل انڈین ایر فورس کو شکست دی اور بڑا علاقہ واگزار کروالیا اب مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان بھارت کے زیر تسلط خطہ کی آزادی کے لیے تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں وہ ان ظالموں سے اپنے آپ کو اور مقبوضہ کشمیر کو آزادی دلانا چاہتے ہیں کشمیر میں اس وقت بھارتی مظالم انتہا پر ہیں وہاں ایک سال سے کرفیو ہے کاروبار زندگی ختم ہو گیا ہے اس وقت کرفیو کے باوجود پوری آبادی آزادی کی صدائوں سے گونج رہی ہے۔ ●27 اکتوبر کو آزاد کشمیر اور دنیا بھر کے کشمیری عوام ،مقبوضہ کشمیر، اور پاکستان بھارت کی جانب سے قبضے کے 73 برس پورے ہونے کے خلاف یوم سیاہ منا رہے ہیں۔

اسرائیل ،بحرین تعلقات

فلسطین، اسرائیل تنازعہ🇪🇭🇮🇱

فلسطین دنیا کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان تھا اب اس کے بیشتر حصے پر اسرائیل نے ریاست قائم کر لی ہے۔1948سے پہلے یہ علاقہ فلسطین کہلاتا تھا۔اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھاجس پر 1967میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔بیت المقدس کو اسرائیل یروشلم کہتے ہیں اور یہ شہر یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔

اسرائیل بحرین تعلقات پہلے کیا تھے

اسرائیل اور بحرین کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں دونوں ممالک کے درمیان کوئی سفارتی یا معاشی تعلق نہیں تھا بیش تر عرب ممالک کی طرح بحرین اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا تھا بلکہ فلسطینی لوگوں کی آزاد مملکت قایم کرنے کےحق کو تسلیم کرتا تھا۔اس کے باوجود بھی 1990 میں ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی گی تھی۔

●مشرق وسطی

بہت ہی کم مدت میں امریکہ نے مشرق وسطی میں دو تاریخی معاہدوں میں اہم کردار ادا کیا ہے پہلا معاہدہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہوا تھا دوسرا معاہدہ اسرائیل اور بحرین کے درمیان ہوا ہے۔

● تقریب کے میزبان

وائٹ ہاوس میں منعقد اس تاریخی معاہدے پر دستخط کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے وہ اس تقریب کے میزبان تھے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ” ان معاہدوں سے پورے خطے میں جامع امن کے قیام کی بنیاد پڑے گی “اس موقع پر صدر ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو ، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبد الطیف الزیانی بھی موجود تھے۔

●دو طرفہ تعاون

بحرین اور اسرائیل نے معمول کے تعلقات قائم کرنے کے لیے گزشتہ ماہ قائم ہونے والے امن معاہدے کو باضابطہ منظوری دیتے ہوئے دو طرفہ تعاون کے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ پر اتوار کے روز منامہ میں دستخط کر دیئے ہیں ۔

●منامہ میں احتجاج

ان معاہدوں پر دستخط پر بحرینی شہریوں نے ناراضگی کا اظہار کیا اور اسرائیلی وفد کے دورے اور طے پانے والے معاہدوں کے خلاف منامہ میں احتجاج کیا گیا۔

●اسرائیلی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری اعلان میں کہا گیا ہے کہ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں تاریخی لمحات کا مشاہدہ ہوا ہے دونوں ممالک کے مابین وسیع پیمانے کے سفارتی تعلقات کے آغاز کے لیے مشترکہ ضابطہ مطابقت پر دستخط ہو گئے ہیں۔ ●بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف بن راشد الزیانی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وہ امید رکھتے ہیں دونوں ملک ہر شعبے میں معنی خیز تعاون کریں گے۔انھوں نے خطے میں امن کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل تجویز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ●اس تقریب کے دوران متعدد دیگر معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ان میں تجارت، فضائی خدمات ، ٹیلی کمیونیکیشن ، مالیات، بینکنگ اور زراعت شامل ہے ۔

●اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چوتھا ملک

بحرین مشرق وسطی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چوتھا ملک ہے اسرائیل اور بحرین نے باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات قایم کر لیے ہیں جس نے 1948میں قایم ہونے والے ملک اسرائیل کو پیش تر عرب ممالک کی طرح اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا تھا اب بحرین نے اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا ہے بحرین سے پہلے متحدہ عرب امارات ، مصر ، اور اردن اسرائیل کے ساتھ تعلقات قایم کر چکے ہیں ۔

●فلسطینی عوام کا ردعمل

جب بحرین کی جانب سے معاہدے کا اعلان کیا گیا تو احتجاج فلسطین کے وزارت خارجہ نے بحرین سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اس کے علاوہ فلسطینی رہنماوں نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے ایسے معاہدوں کی سخت مخالفت کی ہے ۔فلسطینی قیادت نے کہا ہے کہ ان اقدامات سے فلسطینی عوام کے قومی حقوق اور عرب امارات کو خطرہ لاحق رہے گا ۔

ایران ،ترکی رد عمل

ایران اور ترکی نے مشرق وسطی کے ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اس پیش رفت پر سخت اعتراض کیا ہے اور اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان۔

آذربائیجان جس کو سرکاری طور پر جمہوریہ آذربائیجان کہا جاتا ہے پورپشیا کے جنوبی قفقاز کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کے درمیان واقع اس ملک کے مشرق میں بحیرہ قزوین ، شمال میں روس، مغرب میں آرمینیا اور ترکی ، شمال مغرب میں جارجیا اور جنوب میں ایران واقع ہے آذربائیجان کے جنوب مغرب میں واقع نگورنو کارا باخ اور سات مزید اضلاع نگورنو کارا باغ کی 1994 کی جنگ کے بعد سے آرمینیا کے قبضے میں ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی چار قرار دادوں نے آرمینیا سے کہا ہے کہ وہ آذربائیجان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا لے۔

● آرمینیا میں آذریوں کا قتل عام۔

آذری لوگ ایران اور آذربائیجان کے علاوہ بیسوی صدی تک آرمینیا میں بھی آباد تھے 1905 سے لے کر 1920 تک آرمینیائی لوگوں نے آذری کا شدید قتل عام کیا نکارنو کارا باخ کے علاقوں میں 15 لاکھ آذری لوگوں کو قتل کیا گیا اور 20 لاکھ کو آرمینیا چھوڑنا پڑا آرمینیا میں آج آذری لوگوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

پس منظر۔

1828کو زار روس نے ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت دو اہم آذری علاقے یریوان اور نخچیوان پر مشتمل ایک ریاست آرمینیا پیدا کی گئی جس کا کوئی وجود نہ تھا۔

آذریوں کے قتل عام کا دن ۔

آذربائیجان کے مرحوم سابقہ صدر حیدر علی نے 26 مارچ ا1998 کو فیصلہ دیا کہ 31 مارچ کو آذربائیجان کے باشندوں کی آرمینیا کے ہاتھوں نسل کشی کے دن کے طور پر منایا جائے۔

تاریخ آرمینیا۔

تیسری صدی میں آرمینیا تاریخ کی پہلی عیسائی ریاست بنی ، آرمینیائی اپوسٹولک چرچ نے سال 2003 میں اپنی بنیاد کی 1700سالہ سالگرہ منائی۔

جنگ کی ابتداء ۔

نوگورنو کارا باخ آذربائیجان کا علاقہ ہے آذربائیجان کے صدر کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی زمینوں کی واپسی کے لیے 30 سال انتظار کیا ہے اور ہم یہ علاقہ واپس لے کر رہیں گےاور آرمینیی فوج کی واپسی تک کاروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

● آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ۔

● پاکستان اور ترکی۔🇹🇷🇵🇰

●پاکستان اور ترکی نے آذربائیجان کی حمایت کر دی۔ ترک صدر طیب اردوان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آرمینیا نگورنو کارا باخ کا علاقہ چھوڑنا ہو گا۔ ●آرمینیا سے جنگ میں آذربائیجان کی مکمل حمایت کرنے پر پاکستان میں آذری سفیر علی علی زادہ نے اظہار شکر کیا ہے۔

آذربائیجان کے سفیر۔

علی علی زادہ

پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر علی علی زادہ نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ کے ذریعے آزاد کرائے گئے علاقوں کی تفصیلات کے ساتھ نقشہ بھی شیئر کیا ہے۔ علی علی زادہ نے بتایا کہ آذربائیجان نے آرمینیا کے قبضے سے ایک شہر، ایک بستی اور34 گاوں آزاد کرالیے ہیں۔

آذربائیجان کی کامیابی کی وجہ۔

آذربائیجان کئ کامیابیوں کی بڑی وجہ اسرائیل اور ترکی سے حاصل کردہ جدید اسلحہ ہے۔

●روس کی صلاح کی پشکش۔

دونوں وزرائے خارجہ نے روسی صدر کی دعوت پر مزاکرات کیے تھے مزاکرات کے باوجود دونوں کے درمیان جنگ بندی نہیں ہو سکی۔

جنگ بندی کا اعلان۔

متحدہ یورپی یونین ، روس اور ایران نے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ آذربائیجان نے جنگ بندی کے لیے آرمینیا سے متنازعہ علاقے نگورنو کارا باخ سے انخلا کا وقت دینے کی شرط رکھ دی ۔ آرمینیا نے سیز فائر پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ سیز فائر پر عمل درآمد کے چند گھنٹے بعد ہی کارا باخ کے دارالحکومت میں 7 دھما کے ہوئے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

فیصلہ عوام کا۔

نواز شریف نے اے، پی ، سی میں جو تقریر کی ہے وہ قومی مفاد میں نہیں ہے انھوں نے قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے نواز شریف کا کہنا ہے کہ2018کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی وہ جیت رہے تھے انھیں ہرایا گیا اگر ایسی بات تھی تو انھیں چاہیے تھا کہ وہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ چلے جاتے یا الیکشن کمیشن سے رجوع کرتے جسطرح 2013 میں عمران خان نے چار حلقے کھولنے پر زور دیا تھا اور پر وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بھی گئے تھے اسی طرح نواز شریف بھی چلے جاتے اب لندن میں بیٹھ کر یہ کہنا کہ میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے بڑی عجیب بات ہے اگر یہ بات تھی تو وہ آخری وقت تک اپنے ووٹر کے ساتھ کھڑے رہتے انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ بیماری کا بہنا نہ بنا کر لندن چلے گئے اور وہاں سے کہہ رہے ہیں میرے ساتھ دھاندلی ہوئی اور وہاں سے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ان کی پوری تقریر میں صرف الزامات ہیں انھوں نے یہ تقریر اے، پی، سی میں کی ہے نواز شریف کے علاوہ پیپلز پارٹی اور بہت سی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اور حکومت پر تنقید کی ہے۔

بلاول بھٹو نے نواز شریف کو اے، پی ، سی میں شرکت کی دعوت دی تھی جسے انھوں نے قبول کیا اور آل پارٹیز کانفرس میں ویڈیو لنک کے زریعے خطاب کیا۔

نواز شریف کا خطاب

نواز شریف کے خطاب پر دو رائے ٹوئیٹ کے زریعے

ڈاکٹر شہباز گل ! عدالت کے فیصلہ میں واضع ہے ایک مفرور مجرم نے اگر ویسے ہی حقوق استعمال کرنے ہیں جو کہ ایک آزاد شہری کے ہیں تو پھر ایسے مفرور قرار کیا صرف فائلوں کی زینت بنانے کے لیے کیا جاتا ہے ؟ پیرا 411 اور پیرا 421 میں یہ واضح ہے کہ نواز شریف جیسے مجرم یہ حق نہیں رکھتے۔

خواجہ آصف ! کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی تقریر اسکول کے نصاب میں پڑھائے جانے کے قابل ہے۔

● اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی تشکیل اور وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ۔

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی تشکیل کا اعلان کیا گیا ہے اور ساتھ انھوں نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

پی،ڈی،ایم کا مشترکہ اعلامیہ۔

حکومت کے خلاف مہنگائی، بےروزگاری، دیگر عوامی مسائل پر احتجاج کا لائحہ عمل اور عمران خان سے استعفے کا مطالبہ اور متحدہ اپوزیشن نے ملک گیر تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے ۔

پی،ڈی،ایم کا سربراہ۔

پی، ڈی، ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ہیں۔ پی، ڈی، ایم کےسربراہ پر نیب کا الزام؟

نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں مولانا فضل الرحمن کو طلب کیا ہے مولانا فضل الرحمن کو چاہیے کہ پہلے نیب کے سامنے پیش ہو کر آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ثبوت دے دیں۔اور پھر سربراہ ہی کریں۔

نواز شریف تین مرتبہ کے وزیر اعظم ۔ توشہ خانہ کیس میں نواز شریف اشتہاری قرار۔ احتساب عدالت کے محمد بشیر نے نواز شریف کو لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایوان فیلڈ کے مقدمے میں 11 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔

آصف علی زرداری۔

توشہ خانہ کیس میں آصف علی زرداری کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری۔ آصف علی زرداری پر منی لانڈرنگ کیس میں فرد جرم عائد ہے۔

●عمران خان۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ عمران خان نے کوئی بددیانتی نہیں کی ، اثاثے چھپانے کا الزام غلط ہے بنی گالا کی اراضی عمران خان کو جمائما کی طرف سے تحفے میں ملی ۔حنیف عباسی عمران خان کو 62 63 کے تحت نا اہل کرنا چاہتے تھے۔لیکن عدالت نے عمران خان کو اہل قرار دیا ہے۔

یہ ساری جماعتیں عوام کے پاس جارہی ہیں اس لیے عوام یعنی ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون صیح ہے اور کون غلط کون ملزم ہے کون مجرم ۔

عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک جامع خطاب کیا انھوں نے اپنا خطاب معیشت سے شروع کیا ترقی پزیر ملکوں کی مشکلات بیان کیں منی لانڈرنگ پر بات کی اسلامو فوبیا ، کشمیر ، فلسطین ، افعانستان یعنی انھوں نے اپنے خطاب میں ہر موضوع پر بات کی اس لیے میں ان کے ہر موضوع کو تفصیل سے اور الگ الگ بیان کروں گی۔

منی لانڈرنگ اور ترقی پزیر ملک۔

عمران خان نے ترقی پزیر ملکوں کو covid19 کی وجہ سے جو مشکلات ہیں اس کا ذکر کیا کورونا کی وجہ سے ترقی پزیر ملکوں کی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی عوام پریشان ہے ترقی یافتہ ملکوں نے بجلی کے بل ، پانی کے بل وغیرہ معاف کر دیے ہیں تاکہ ان کی عوام معاشی طور پر کمزور نہ ہو اور ترقی پزیر ملک معاشی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ وہ اپنی عوام کی مدد نہیں کر سکتے اس لیے عمران خان پہلے بھی کہا تھا کہ ترقی یافتہ ملکوں کو چاہیے کہ وہ ترقی پزیر ملکوں کی مدد کرے ان کے قرضے معاف کرے۔ عمران خان نے منی لانڈرنگ کے بارے میں یہ کہا کہ ترقی پزیر اور چھوٹے ملکوں کے وہ لوگ جو سیاستدان اور بیوروکریٹ ہوتے ہیں یہ کرپٹ لوگ پیسہ لوٹ کر باہر لے جاتے ہیں اور باہر جاکر جائیدادیں خریدتے ہیں اور بڑے ملک ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ترقی یافتہ ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کسی ترقی پزیر یا چھوٹے ملک کا سیاستدان یا کوئی بھی کسی ترقی یافتہ ملک میں جا کر اپنی جائیدادیں خریدتا ہے تو اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ اس کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی جیسے پاکستان میں نواز شریف نے لندن میں جائیدادیں خریدیں ہیں اس کے علاوہ ہمارے بہت سے سیاستدانوں کی جائیدادیں سعودیہ اور یو، اے، ای میں ہیں ۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ملک اپنے قوانین پر نظر ثانی کریں اور ایسے قوانین بنائیں جس سے چھوٹے ملکوں کا پیسہ ان کو واپس ملے اگر ترقی پزیر ملکوں کو ان کی لوٹی ہوئی دولت واپس مل جائے تو ان کے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

● آب و ہوا کی تبدیلی اور بھارت میں انتہا پسند کی حکومت۔

عمران خان نے ایک کڑور درخت لگا کر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے انھوں نے پوری دنیا کو بتایا کہ ماحول کو کس طرح بچایا جا سکتا ہے عمران خان نے کہا ہے اس میں ابھی اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ماحول کو بچایا جا سکے پاکستان کو ماحول دوست پالیسوں کی وجہ سے چیمپین فار نیچر کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اسلامو فو بیا عمران خان نےخاکے اور توہین رسالت پر بات کی انھوں کہا اسلامو فوبیا ختم ہونا چاہئیے ناروے میں قرآن ہاک کی بےحرمتی کی گئی اس طرح کے واقیات دوسرے ملکوں میں بھی ہوئے ہیں۔ بھارت میں انتہا پسندوں کی حکومت ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں پر اسلامو فوبیا زیادہ ہے rss نازی فوجیوں سے ملتے ہیں یہ عمران خان کا کہنا ہےنازی فوجی جس طرح یہودیوں کو مارتے تھے اسی طرح rss کے لوگ مسلمانوں کو مارتے ہیں۔اس کی بہت سی مثالیں ہیں مثلا 2000 مسلمانوں کو گجرات میں مارا گیا سمجھوتہ ایکسپریس میں مسلمانوں کو ٹرین میں زندہ جلایا گیا۔2020 کا واقعہ ہے کہ 11 پاکستانی ہندو کو بھارت میں قتل کر دیا گیا ہے جس کے خلاف پاکستان میں رمیش کمار اور ہندو کونسل عالمی عدالت انصاف جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔بھارت میں 30 کڑور لوگ اقلیت میں ہیں اور ہندو انتہا پسندی کی وجہ سے 30 کڑور لوگوں کی جان خطرے میں ہے۔

مسئلہ کشمیر۔

پاکستان کشمیر کے مسئلے کو ہر فورم پر اٹھا رہا ہے چاہے وہ سلامتی کونسل ہو یا شنگھائی تعاون تنظیم 73 سال سے کشمیر پاکستان اور بھارت میں متنازعہ ہے ہندوستان نے 15 اگست 2019 کو 370 35 /a کوختم کر دیا 370 آرٹیکل ریاست جموں وکشمیر کو انڈین یونین میں خصوصی نیم خود مختار حیثیت دیتا تھا370 a/35 کے خاتمے کے بعد جموں کشمیر کو ایک ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہا مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو دو حصوں میں تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔کشمیر میں بھارتی مظالم انتہا ء پر ہیں۔ وہاں ایک سال سے کرفیو ہے اس وقت کے باوجود پوری آبادی آزادی کی صدائوں سے گونج رہی ہے آزادی کی اس تحریک میں شہید ہونے والے نوجوانوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر بڑے بڑے جلوس کی صورت میں لے جا کر تدفین کی جاتی ہے وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کو کشمیریوں کی امنگ کے مطابق حل کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر امن نا ممکن ہے بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے ان پر بم باری کرتا ہے پاکستان اس کا بھر پور جواب دیتا ہے عمران خان کا کہنا ہے کشمیر کی وجہ سے نیوکلیئر جنگ ہو سکتی ہے اگر دنیا چاہتی ہے نیوکلیئر جنگ نہ ہو تو ایسے چاہیے کہ کشمیر کا کوئی فیصلہ کرے جب تک ہر شخص محفوظ نہیں ہو جاتا تب تک ہر شخص غیر محفوظ ہے۔

مسئلہ فلسطین۔

کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ ایک جیسا ہے حلانکہ کشمیر اور فلسطین ایک دوسرے سے بہت دور ہیں مگر دنیا کے نقشے پر دونوں متنازعہ علاقے ہیں کشمیر اور فلسطین کے مسئلے ان کی عوام کی رائے کے مطابق حل ہوجائیں تو مسلم دنیا کے مسائل حل ہو جائیں گے۔اسرائیل نے جن علاقوں پرقبضے کیے ہوئے ہیں وہ 1948 میں فلسطین کے تھے 1967 میں اسرائیل نے ان تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا اور جو ہمارا قبلئہ اول ہے بیت المقدس اسرائیلی اس کو یروشلم کہتے ہیں عمران خان نے یہ ہی کہا ہے 1967 سے پہلے جو علاقے فلسطین کے تھے وہ ان کو مل جانے چاہئیں اور 1967 سے پہلے اسرائیل کے جو علاقے تھے وہ ان کے ہیں فلسطین کو ایک آزاد مکمل ریاست بنایا جائے اور بیت المقدس فلسطین کا درالحکومت ہو گا پاکستان نے اپنا فیصلہ پوری دنیا کو سننا دیا کہ ہم فلسطین کو اس طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔

افغان امن مذاکرات۔

پاکستان میں اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا جب تک افغانستان میں امن نہ ہو اس لیے پاکستان پوری کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ہوں اور پر امن طور پر یہ مسئلہ حل ہو 20 سال سے وہاں جنگ ہو رہی ہے عمران خان نے کہا ہے ہم نے سب کو ٹیبل پر بٹھایا تا کہ مذاکرات کے زریعے مسئلہ حل ہو عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ افغانستان کے لوگ حل کریں گے وہاں کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ کیسا ملک بنانا ہے اور ملک کو آگئے کیسے لے کر جانا ہے ۔ امریکہ افعان امن معاہدہ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے بھی مفاد میں ہے اس سے نہ صرف خطے میں دہشت گردی کم ہو گی بلکہ دونوں ملکوں کے لیئے ترقی کا سفر بھی تیز ہو گا۔

توشہ خانہ ریفرنس

تحفے میں ملی گاڑیاں سستے داموں خریدنے پر یہ ریفرنس احتساب عدالت میں دائر ہوا اور یہ ریفرنس نیب نے دائر کیا توشہ خانہ میں صدر اور وزیراعظم کو دوسرے ملک کے سربراہان سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے ان تحفوں کو کوئی بھی اپنے گھر نیں لے جا سکتا ۔لیکن پیپلزپارٹی نے ایسا کیا انھوں نے مہنگی گاڑی سستے داموں خرید کر اپنے گھر لے گئے اس وقت اس ملک کے صدر آصف علی زرداری تھے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے ۔2008 میں نواز شریف کسی عوامی عہدے پر فائز نیں تھے لیکن پھر بھی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے انھیں توشہ خانے سے گاڑیاں دیں۔یہ پہلا کیس ہے جس میں دونوں کو ایک ساتھ اور ایک ہی مقدمے میں سزائیں سنائی گئی جب کہ دونوں کے اور بھی مقدمے چل رہے ہیں کچھ کے فیصلے ہو گیے ہیں اور کچھ کے ہونا باقی ہے جیسے آصف علی زرداری کا منی لانڈرنگ کا کیس ابھی اس کا فیصلہ نیں ہوا اسی طرح منی لانڈرنگ کے کیس میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی نواز شریف کو لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ کے مقدمے میں 11 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی ۔نواز شریف کے پاس جائیدادیں بہت ہیں لیکن انھیں یہ نہیں پتہ کہ پیسہ کہاں سے آیا اسی وجہ سے انھیں ایون فیلڈ کے مقدمے میں سزا ہوئی ۔توشہ خانہ کیس بھی منی لانڈرنگ کا کیس ہے مہنگی گاڑیاں سستے داموں خرید لیں۔بطور صدر آصف علی زرداری کو لیبیا اور یو ، اے، ای سے تحفے میں گاڑیاں ملیں انھوں نے یہ گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود خرید لیں آصف علی زرداری نے گاڑیوں کی 15 فیصد ادائیگی جعلی اکاونٹس کے زریعے کی اور یہ جعلی اکاونٹس اوممنی گروپ کے سربراہ انور مجید ہیں ۔ان کے جعلی اکاونٹ کے زریعے 15 فیصد ادائیگی کی گئی تھی اس لیے انھیں بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے ۔آصف علی زرداری نے 15 فیصد ادائیگی کر کے یہ گاڑیاں اپنے ذاتی استعمال کے لیے حاصل کیں۔انھوں نے منی لانڈرنگ کی اس لیے عدالت نے آصف علی زرداری کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اسی طرح یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف نے معمولی رقم ادا کر کے یہ مہنگی گاڑیاں اپنے پاس رکھ لی جو کہ منی لانڈرنگ کہلاتی ہے اس لیے احتساب عدالت نے وزیر اعظم نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے نواز شریف اس وقت لندن میں ہیں وہ لندن میں اپنا علاج کروانے گئے ہیں لیکن کسی اسپتال میں داخل نہی ہوئے البتہ جب کہیں گھومنے جاتے ہیں تو اس کی تصویر ضرور شیئر کرتے ہیں ان کو دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ وہ بیمار ہیں وہ بیماری کا بہانہ کر کے گیے ہیں اور ان کے آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے نواز شریف کے نہ آنے کی وجہ سے ہی احتساب عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے اور ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے زریعے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کروائے ۔یوسف رضا گیلانی نے بھی مہنگی گاڑی سستے داموں خریدی تھی اس لیے ان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔جس دولت کو یہ بچانے کی کوشش کر رہے تھے اسی دولت کی وجہ سے ان کو سزائیں مل رہی ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم

جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے بھارت کو ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے نواز شریف دور میں بھارت نے پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا تھا انڈیا کی اس بات کو پوری دنیا مانتی تھی کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے ۔عمران خان نے پوری دنیا کے اس بیان کو تبدیل کروایا انھوں نے کہا کہ ہم دہشت گرد نیں ہیں بلکہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہےہیں ہماری اس جنگ میں ہمارے فوجی جوان شہید ہو رہے ہیں اور ہماری فوج تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کر رہی ہے عمران خان کی اس بات کو ساری دنیا نے ماننا ۔آج پوری دنیا کہتی ہے پاکستان ایک امن پسند ملک ہے پاکستان میں عمران خان کی وجہ سے ہر محاذ پر پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی دوسری طرف مودی کی حکومت انتہاپسندوں کی حکومت ہے مودی کو اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے 2019 اگست 5 کو کشمیر جو متنازعہ علاقہ ہے اسے اپنا حصہ ظاہر کیا اور وہاں پر کرفیو لگا دیا ایک سال سے وہاں کرفیو لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے کشمیر میں اشتعال پایا جاتا ہے عمران خان نے کشمیر کے اس مسئلے کو ہر فورم پر اٹھایا ہے اور بتایا کہ وہاں پر کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ان کی اس بات کو پوری دنیا نے تسلیم کیا آج پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور وہ ایک متنازعہ علاقہ ہے بھارت کو پہلی شکست سلامتی کونسل میں ہوئی پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو تین مرتبہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل کیا ۔بھارت کی ہر بار یہ کوشش ہوتی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل نہ ہو اور پاکستان ہر بار یہ کوشش کرتا ہے کہ یہ ایجنڈے میں شامل ہو اور پاکستان کی یہ کوشش ہر بار کامیاب ہوتی جا رہی ہے اور بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اب بھارت کو پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ شنگھائی تعاون تنظیم ہے جب شنگھائی تعاون تنظیم کےقومی سلامتی کے مشیروں کے ورچوئیل اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف جب تقریر کرنے آئے تو انھوں نے پاکستان کا نیا نقشہ رکھا تو اجیت دوول نے کہا ہم اس نقشے کو نیں مانتے یہ کہا اور چلے گیے روس اور پاکستان کی تقریر کے بعد واپس آگئے عالمی برادری نے بھارت کے اس اعتراض کو مسترد کر دیا اور اجیت دوول کے اس طرح چلے جانے پر بھی کسی نے بھارت کا ساتھ نیں دیا اور بھارت کو پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔نیا نقشہ پاکستان کے حقوق اور کشمیری عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

سلامتی کونسل میں شکست

بھارت کو سلامتی کونسل میں بڑی شکست کھانی پڑی اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرام ہیں موجودہ حکومت نے ایک سال میں تین مرتبہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل کیا ہے ۔ایجنڈے میں تبدیلی پندرہ رکنی کونسل کے متفقہ فیصلے سے ممکن ہوتی ہے ایک کے کہنے پر کچھ بھی نہیں ہٹایا جاتا ہے اس لیے ان کی درخواست منظور نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ان کو وہاں پر ذلت اٹھانا پڑی ۔وہاں پرجب اسطرح کا معاملہ اتنی بار زیر بحث آتا ہے تو یہ بحث عالمی پریشر بناتی ہے بھارت پر عالمی دباو پڑ رہا ہے ان کی قراردادوں میں کشمیر کے مسلے کو پر امن طریقے سے حل کر نے پر زور دیا ہے مگر بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارت کے خلاف بار بار آواز اٹھائی جا رہی ہے جو سلامتی کونسل میں شکست کی وجہ بنی۔

درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو سرنڈر کرنے کا حکم دیا ہے یہ فیصلہ ہائیکورٹ نے ان کی اپیلوں پر کیا ہے ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق نواز شریف اپنی آئیندہ سماعت سے پہلے گرفتاری دے دیں ان کی آئندہ سماعت 10 ستمبر کو ہو گی پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے جب ضمانت کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو ملزم کو سرنڈر کرنا پڑتا ہے اس لیے عدالت نے نواز شریف کو یہ حکم دیا ہے ۔ان کی پارٹی اور وکیل کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں نیں ہو سکتا اور ان کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے پلیٹ لیس اور شوگر کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے وہ پاکستان نیں آ سکتے اور ان کی پارٹی اپنے اس بیانئیے پر قایم ہے کہ نواز شریف بہت بیمار ہیں نیں آئیں گے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ پارٹی کا فیصلہ ہے کہ وہ پاکستان نہ آئیں اس لیے وہ پاکستان نہیں آئیں گے یہ سب ان کی باتیں ہیں ۔دراصل نواز شریف پاکستان اس لیے نیں آ رہے کہ عدالت کے حکم کے مطابق انھیں سریندر کرنا پڑے گا جس کے نتجے میں انھیں جیل جانا پڑے گا اور پیشیاں بھگتنا پڑیں گی اتنی آرام کی زندگی چھوڑ کر وہ جیل جانے کے لیے کیوں آئیں گے وہ آئیں گے ضرور کیونکہ وہ اپنی سیاست تو ختم نیں کر سکتے کبھی نہ آنے کی صورت میں ان کی سیاست ختم ہو جائے گی وہ اس وقت آئیں گے جب یہ احتساب کا نعرہ ختم ہو جائے گا یعنی عمران خان کی حکومت چلی جائے گی اور ان کے من پسند لوگ آجائیں گے ۔اس وقت وہ آنا نہیں چاہتے آنے کی صورت میں انھیں جیل جانا پڑے گا اس لیے وہ واپس نیں آئیں گے ۔جب ماحول ان کے مطابق ہو گا اس وقت ہی وہ واپس آئیں گے نہ آنے کی صورت میں عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے یہ 10 ستمبر کو معلوم ہوگا۔