نواز شریف حکومت پر دباو بڑھانے کے لیے اپنی سیاسی چالیں چل رہے ہیں ایک ناکام ہو جاتی ہے تو دوسری چال چل دیتے ہیں اب بھی وہ کچھ اسی طرح کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے جب سے مولانا فضل الرحمان کو فون کیا ہے تب سے یہ خبریں گرم ہے کہ نواز شریف نے حکومت مخالف تحریک شروع کر دی ہے ۔اصل میں نواز شریف یہ سب کر کے حکومت کو پریشر میں لانا چاہتے ہیں وہ اس کے زریعے اپنے لیے، اپنے خاندان کے لیے، اور اپنی سیاسی جماعت کے لیے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔نواز شریف نے مریم نواز کو فضل الرحمن سے ملنے کے لیے کہا ہے اور a.p.c بلانے کے لیے کہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مریم نواز کو سیاسی طور پر متحرک ہونے کے لیے کہا ہے اور انھیں کہا گیا ہے کہ وہ جلسے اور جلوس کریں نواز شریف ان کے ساتھ ہیں وہ عمران خان کے خلاف احتجاج کریں ۔وہ یہ احتجاج کی تاریخ ابھی نیں دے رہے ہیں ۔شاہد تاریخ اس وقت دیں گے جب چائنہ کے وزیراعظم پاکستان آئیں گے ۔اس وقت حکومت پر دباو بڑھانے کے لیے وہ احتجاج کا علان کریں گے تا کہ حکومت دباو میں آ کر ان کی بات مان لے وہ اصل میں حکومت کو دباو میں لا کر اپنی سیاسی جماعت اور مریم نواز کے لیے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی یہ سیاسی چال کامیاب ہوتی ہے یہ ناکام۔