قائدے قانون اور کام

وزیر اعظم عمران خان کراچی پہنچ گئے ہیں اور انھوں نےٹرانسفارمیشن پلان کا اعلان کیا ہے عمران خان نے 1100 ارب کے پیکج کا اعلان کیا ہے جس میں 8سو ارب وفاق دے گا اور 3سو ارب سندھ دے گا پینے کا صاف پانی کراچی والوں کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ ہے پانی کی پائپ لائن سیوریج سے مل گئی ہے اتنے سالوں سے یہ سیاسی جماعتیں ہیں مگر انھوں نے اس مسلے پر توجہ ہی نہیں دی اس لیے کراچی والوں کے پاس پینے کا صاف پانی نیں ہے وہاں پر ٹینکر مافیا کام کر رہے ہیں وہاں پر پانی خریدنا پڑتا ہے امیر لوگ خرید لیتے ہیں اور غریب لوگ احتجاج کرتے نظر آتے ہیں ۔اس لیے یہ جلد حل ہونا چاہیے اور عمران خان نے بھی اسے جلد حل کرنے کا کہا ہے۔دوسرا مسلہ سیوریج کا پانی ہے سڑکیں سیوریج کے گندے پانی سے بھری رہتی ہیں اور گندا پانی باہر آنے کی وجہ پلاسٹک بیگ ہیں پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تھی لیکن اس پر عمل ہی نہیں ہوا قانون پر عمل کرانا حکومت کا کا م ہوتا ہے اسی طرح کچرا ہے کراچی میں ہر جگہ کچرا اور کچرے کے ڈھیر ہیں لوگ اپنی مرضی سے ہر جگہ کچرا پھینک دیتے ہیں اور کچرا اٹھانے کا بھی حکومت نے کوئی انتظام نہیں کیا ہے اس وجہ سے کچرے کے ڈھیر ہیں اگر کچرا پھینکے کا کوئی قانون ہوتا تو آج ہر جگہ کچرا نظر نیں آتا ۔اس کے بعد کراچی میں ٹرانسپورٹ بھی ایک مسئلہ ہے اتنی بڑی آبادی والے شہر میں صرف چند بس ہیں جس پر لوگ سفر کرتے ہیں اتنی بڑی آبادی والے شہر میں صرف چند بس ۔عمران خان نے کہا ہے کہ ان مسائل کو ایک سال میں ایک ساتھ حل کریں گے اگر عمران خان نے ان بنیادی مسائل کو حل کر دیا تو باقی مسئلے آسانی سے حل ہو جائیں گے ان سب کاموں کی مانیٹرنگ پی سی آئی سی کرے گا جس میں وفاق، صوبائی حکومت اور فوج شریک ہو گی ۔کراچی میں اب سیاست نیں ہونی چاہیے بلکہ کام ہونا چاہیے اور یہ ہی کراچی کی عوام چاہتی ہے ۔اب کوئی بہانہ کراچی والوں کو مطمعن نیں کر سکتا اب جو کام کرے گا کراچی والے اسی کو ووٹ دیں گے سب جماعتوں کے لیے یہ آخری موقع ہے ۔

Leave a comment