جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے بھارت کو ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے نواز شریف دور میں بھارت نے پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا تھا انڈیا کی اس بات کو پوری دنیا مانتی تھی کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے ۔عمران خان نے پوری دنیا کے اس بیان کو تبدیل کروایا انھوں نے کہا کہ ہم دہشت گرد نیں ہیں بلکہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہےہیں ہماری اس جنگ میں ہمارے فوجی جوان شہید ہو رہے ہیں اور ہماری فوج تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کر رہی ہے عمران خان کی اس بات کو ساری دنیا نے ماننا ۔آج پوری دنیا کہتی ہے پاکستان ایک امن پسند ملک ہے پاکستان میں عمران خان کی وجہ سے ہر محاذ پر پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی دوسری طرف مودی کی حکومت انتہاپسندوں کی حکومت ہے مودی کو اپنی انتہا پسندی کی وجہ سے ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے 2019 اگست 5 کو کشمیر جو متنازعہ علاقہ ہے اسے اپنا حصہ ظاہر کیا اور وہاں پر کرفیو لگا دیا ایک سال سے وہاں کرفیو لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے کشمیر میں اشتعال پایا جاتا ہے عمران خان نے کشمیر کے اس مسئلے کو ہر فورم پر اٹھایا ہے اور بتایا کہ وہاں پر کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ان کی اس بات کو پوری دنیا نے تسلیم کیا آج پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور وہ ایک متنازعہ علاقہ ہے بھارت کو پہلی شکست سلامتی کونسل میں ہوئی پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو تین مرتبہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل کیا ۔بھارت کی ہر بار یہ کوشش ہوتی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل نہ ہو اور پاکستان ہر بار یہ کوشش کرتا ہے کہ یہ ایجنڈے میں شامل ہو اور پاکستان کی یہ کوشش ہر بار کامیاب ہوتی جا رہی ہے اور بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اب بھارت کو پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ شنگھائی تعاون تنظیم ہے جب شنگھائی تعاون تنظیم کےقومی سلامتی کے مشیروں کے ورچوئیل اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف جب تقریر کرنے آئے تو انھوں نے پاکستان کا نیا نقشہ رکھا تو اجیت دوول نے کہا ہم اس نقشے کو نیں مانتے یہ کہا اور چلے گیے روس اور پاکستان کی تقریر کے بعد واپس آگئے عالمی برادری نے بھارت کے اس اعتراض کو مسترد کر دیا اور اجیت دوول کے اس طرح چلے جانے پر بھی کسی نے بھارت کا ساتھ نیں دیا اور بھارت کو پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔نیا نقشہ پاکستان کے حقوق اور کشمیری عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔