تحفے میں ملی گاڑیاں سستے داموں خریدنے پر یہ ریفرنس احتساب عدالت میں دائر ہوا اور یہ ریفرنس نیب نے دائر کیا توشہ خانہ میں صدر اور وزیراعظم کو دوسرے ملک کے سربراہان سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے ان تحفوں کو کوئی بھی اپنے گھر نیں لے جا سکتا ۔لیکن پیپلزپارٹی نے ایسا کیا انھوں نے مہنگی گاڑی سستے داموں خرید کر اپنے گھر لے گئے اس وقت اس ملک کے صدر آصف علی زرداری تھے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے ۔2008 میں نواز شریف کسی عوامی عہدے پر فائز نیں تھے لیکن پھر بھی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے انھیں توشہ خانے سے گاڑیاں دیں۔یہ پہلا کیس ہے جس میں دونوں کو ایک ساتھ اور ایک ہی مقدمے میں سزائیں سنائی گئی جب کہ دونوں کے اور بھی مقدمے چل رہے ہیں کچھ کے فیصلے ہو گیے ہیں اور کچھ کے ہونا باقی ہے جیسے آصف علی زرداری کا منی لانڈرنگ کا کیس ابھی اس کا فیصلہ نیں ہوا اسی طرح منی لانڈرنگ کے کیس میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی نواز شریف کو لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ کے مقدمے میں 11 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی ۔نواز شریف کے پاس جائیدادیں بہت ہیں لیکن انھیں یہ نہیں پتہ کہ پیسہ کہاں سے آیا اسی وجہ سے انھیں ایون فیلڈ کے مقدمے میں سزا ہوئی ۔توشہ خانہ کیس بھی منی لانڈرنگ کا کیس ہے مہنگی گاڑیاں سستے داموں خرید لیں۔بطور صدر آصف علی زرداری کو لیبیا اور یو ، اے، ای سے تحفے میں گاڑیاں ملیں انھوں نے یہ گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود خرید لیں آصف علی زرداری نے گاڑیوں کی 15 فیصد ادائیگی جعلی اکاونٹس کے زریعے کی اور یہ جعلی اکاونٹس اوممنی گروپ کے سربراہ انور مجید ہیں ۔ان کے جعلی اکاونٹ کے زریعے 15 فیصد ادائیگی کی گئی تھی اس لیے انھیں بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے ۔آصف علی زرداری نے 15 فیصد ادائیگی کر کے یہ گاڑیاں اپنے ذاتی استعمال کے لیے حاصل کیں۔انھوں نے منی لانڈرنگ کی اس لیے عدالت نے آصف علی زرداری کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اسی طرح یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف نے معمولی رقم ادا کر کے یہ مہنگی گاڑیاں اپنے پاس رکھ لی جو کہ منی لانڈرنگ کہلاتی ہے اس لیے احتساب عدالت نے وزیر اعظم نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے نواز شریف اس وقت لندن میں ہیں وہ لندن میں اپنا علاج کروانے گئے ہیں لیکن کسی اسپتال میں داخل نہی ہوئے البتہ جب کہیں گھومنے جاتے ہیں تو اس کی تصویر ضرور شیئر کرتے ہیں ان کو دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ وہ بیمار ہیں وہ بیماری کا بہانہ کر کے گیے ہیں اور ان کے آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے نواز شریف کے نہ آنے کی وجہ سے ہی احتساب عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے اور ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے زریعے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کروائے ۔یوسف رضا گیلانی نے بھی مہنگی گاڑی سستے داموں خریدی تھی اس لیے ان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔جس دولت کو یہ بچانے کی کوشش کر رہے تھے اسی دولت کی وجہ سے ان کو سزائیں مل رہی ہیں۔