عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک جامع خطاب کیا انھوں نے اپنا خطاب معیشت سے شروع کیا ترقی پزیر ملکوں کی مشکلات بیان کیں منی لانڈرنگ پر بات کی اسلامو فوبیا ، کشمیر ، فلسطین ، افعانستان یعنی انھوں نے اپنے خطاب میں ہر موضوع پر بات کی اس لیے میں ان کے ہر موضوع کو تفصیل سے اور الگ الگ بیان کروں گی۔

منی لانڈرنگ اور ترقی پزیر ملک۔

عمران خان نے ترقی پزیر ملکوں کو covid19 کی وجہ سے جو مشکلات ہیں اس کا ذکر کیا کورونا کی وجہ سے ترقی پزیر ملکوں کی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی عوام پریشان ہے ترقی یافتہ ملکوں نے بجلی کے بل ، پانی کے بل وغیرہ معاف کر دیے ہیں تاکہ ان کی عوام معاشی طور پر کمزور نہ ہو اور ترقی پزیر ملک معاشی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ وہ اپنی عوام کی مدد نہیں کر سکتے اس لیے عمران خان پہلے بھی کہا تھا کہ ترقی یافتہ ملکوں کو چاہیے کہ وہ ترقی پزیر ملکوں کی مدد کرے ان کے قرضے معاف کرے۔ عمران خان نے منی لانڈرنگ کے بارے میں یہ کہا کہ ترقی پزیر اور چھوٹے ملکوں کے وہ لوگ جو سیاستدان اور بیوروکریٹ ہوتے ہیں یہ کرپٹ لوگ پیسہ لوٹ کر باہر لے جاتے ہیں اور باہر جاکر جائیدادیں خریدتے ہیں اور بڑے ملک ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ترقی یافتہ ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کسی ترقی پزیر یا چھوٹے ملک کا سیاستدان یا کوئی بھی کسی ترقی یافتہ ملک میں جا کر اپنی جائیدادیں خریدتا ہے تو اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ اس کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی جیسے پاکستان میں نواز شریف نے لندن میں جائیدادیں خریدیں ہیں اس کے علاوہ ہمارے بہت سے سیاستدانوں کی جائیدادیں سعودیہ اور یو، اے، ای میں ہیں ۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ملک اپنے قوانین پر نظر ثانی کریں اور ایسے قوانین بنائیں جس سے چھوٹے ملکوں کا پیسہ ان کو واپس ملے اگر ترقی پزیر ملکوں کو ان کی لوٹی ہوئی دولت واپس مل جائے تو ان کے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

● آب و ہوا کی تبدیلی اور بھارت میں انتہا پسند کی حکومت۔

عمران خان نے ایک کڑور درخت لگا کر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے انھوں نے پوری دنیا کو بتایا کہ ماحول کو کس طرح بچایا جا سکتا ہے عمران خان نے کہا ہے اس میں ابھی اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ماحول کو بچایا جا سکے پاکستان کو ماحول دوست پالیسوں کی وجہ سے چیمپین فار نیچر کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اسلامو فو بیا عمران خان نےخاکے اور توہین رسالت پر بات کی انھوں کہا اسلامو فوبیا ختم ہونا چاہئیے ناروے میں قرآن ہاک کی بےحرمتی کی گئی اس طرح کے واقیات دوسرے ملکوں میں بھی ہوئے ہیں۔ بھارت میں انتہا پسندوں کی حکومت ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں پر اسلامو فوبیا زیادہ ہے rss نازی فوجیوں سے ملتے ہیں یہ عمران خان کا کہنا ہےنازی فوجی جس طرح یہودیوں کو مارتے تھے اسی طرح rss کے لوگ مسلمانوں کو مارتے ہیں۔اس کی بہت سی مثالیں ہیں مثلا 2000 مسلمانوں کو گجرات میں مارا گیا سمجھوتہ ایکسپریس میں مسلمانوں کو ٹرین میں زندہ جلایا گیا۔2020 کا واقعہ ہے کہ 11 پاکستانی ہندو کو بھارت میں قتل کر دیا گیا ہے جس کے خلاف پاکستان میں رمیش کمار اور ہندو کونسل عالمی عدالت انصاف جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔بھارت میں 30 کڑور لوگ اقلیت میں ہیں اور ہندو انتہا پسندی کی وجہ سے 30 کڑور لوگوں کی جان خطرے میں ہے۔

مسئلہ کشمیر۔

پاکستان کشمیر کے مسئلے کو ہر فورم پر اٹھا رہا ہے چاہے وہ سلامتی کونسل ہو یا شنگھائی تعاون تنظیم 73 سال سے کشمیر پاکستان اور بھارت میں متنازعہ ہے ہندوستان نے 15 اگست 2019 کو 370 35 /a کوختم کر دیا 370 آرٹیکل ریاست جموں وکشمیر کو انڈین یونین میں خصوصی نیم خود مختار حیثیت دیتا تھا370 a/35 کے خاتمے کے بعد جموں کشمیر کو ایک ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہا مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو دو حصوں میں تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔کشمیر میں بھارتی مظالم انتہا ء پر ہیں۔ وہاں ایک سال سے کرفیو ہے اس وقت کے باوجود پوری آبادی آزادی کی صدائوں سے گونج رہی ہے آزادی کی اس تحریک میں شہید ہونے والے نوجوانوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر بڑے بڑے جلوس کی صورت میں لے جا کر تدفین کی جاتی ہے وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کو کشمیریوں کی امنگ کے مطابق حل کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر امن نا ممکن ہے بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے ان پر بم باری کرتا ہے پاکستان اس کا بھر پور جواب دیتا ہے عمران خان کا کہنا ہے کشمیر کی وجہ سے نیوکلیئر جنگ ہو سکتی ہے اگر دنیا چاہتی ہے نیوکلیئر جنگ نہ ہو تو ایسے چاہیے کہ کشمیر کا کوئی فیصلہ کرے جب تک ہر شخص محفوظ نہیں ہو جاتا تب تک ہر شخص غیر محفوظ ہے۔

مسئلہ فلسطین۔

کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ ایک جیسا ہے حلانکہ کشمیر اور فلسطین ایک دوسرے سے بہت دور ہیں مگر دنیا کے نقشے پر دونوں متنازعہ علاقے ہیں کشمیر اور فلسطین کے مسئلے ان کی عوام کی رائے کے مطابق حل ہوجائیں تو مسلم دنیا کے مسائل حل ہو جائیں گے۔اسرائیل نے جن علاقوں پرقبضے کیے ہوئے ہیں وہ 1948 میں فلسطین کے تھے 1967 میں اسرائیل نے ان تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا اور جو ہمارا قبلئہ اول ہے بیت المقدس اسرائیلی اس کو یروشلم کہتے ہیں عمران خان نے یہ ہی کہا ہے 1967 سے پہلے جو علاقے فلسطین کے تھے وہ ان کو مل جانے چاہئیں اور 1967 سے پہلے اسرائیل کے جو علاقے تھے وہ ان کے ہیں فلسطین کو ایک آزاد مکمل ریاست بنایا جائے اور بیت المقدس فلسطین کا درالحکومت ہو گا پاکستان نے اپنا فیصلہ پوری دنیا کو سننا دیا کہ ہم فلسطین کو اس طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔

افغان امن مذاکرات۔

پاکستان میں اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا جب تک افغانستان میں امن نہ ہو اس لیے پاکستان پوری کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ہوں اور پر امن طور پر یہ مسئلہ حل ہو 20 سال سے وہاں جنگ ہو رہی ہے عمران خان نے کہا ہے ہم نے سب کو ٹیبل پر بٹھایا تا کہ مذاکرات کے زریعے مسئلہ حل ہو عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ افغانستان کے لوگ حل کریں گے وہاں کے لوگ فیصلہ کریں گے کہ کیسا ملک بنانا ہے اور ملک کو آگئے کیسے لے کر جانا ہے ۔ امریکہ افعان امن معاہدہ نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے بھی مفاد میں ہے اس سے نہ صرف خطے میں دہشت گردی کم ہو گی بلکہ دونوں ملکوں کے لیئے ترقی کا سفر بھی تیز ہو گا۔

Leave a comment