آرمینیا اور آذربائیجان۔

آذربائیجان جس کو سرکاری طور پر جمہوریہ آذربائیجان کہا جاتا ہے پورپشیا کے جنوبی قفقاز کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کے درمیان واقع اس ملک کے مشرق میں بحیرہ قزوین ، شمال میں روس، مغرب میں آرمینیا اور ترکی ، شمال مغرب میں جارجیا اور جنوب میں ایران واقع ہے آذربائیجان کے جنوب مغرب میں واقع نگورنو کارا باخ اور سات مزید اضلاع نگورنو کارا باغ کی 1994 کی جنگ کے بعد سے آرمینیا کے قبضے میں ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی چار قرار دادوں نے آرمینیا سے کہا ہے کہ وہ آذربائیجان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا لے۔

● آرمینیا میں آذریوں کا قتل عام۔

آذری لوگ ایران اور آذربائیجان کے علاوہ بیسوی صدی تک آرمینیا میں بھی آباد تھے 1905 سے لے کر 1920 تک آرمینیائی لوگوں نے آذری کا شدید قتل عام کیا نکارنو کارا باخ کے علاقوں میں 15 لاکھ آذری لوگوں کو قتل کیا گیا اور 20 لاکھ کو آرمینیا چھوڑنا پڑا آرمینیا میں آج آذری لوگوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

پس منظر۔

1828کو زار روس نے ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت دو اہم آذری علاقے یریوان اور نخچیوان پر مشتمل ایک ریاست آرمینیا پیدا کی گئی جس کا کوئی وجود نہ تھا۔

آذریوں کے قتل عام کا دن ۔

آذربائیجان کے مرحوم سابقہ صدر حیدر علی نے 26 مارچ ا1998 کو فیصلہ دیا کہ 31 مارچ کو آذربائیجان کے باشندوں کی آرمینیا کے ہاتھوں نسل کشی کے دن کے طور پر منایا جائے۔

تاریخ آرمینیا۔

تیسری صدی میں آرمینیا تاریخ کی پہلی عیسائی ریاست بنی ، آرمینیائی اپوسٹولک چرچ نے سال 2003 میں اپنی بنیاد کی 1700سالہ سالگرہ منائی۔

جنگ کی ابتداء ۔

نوگورنو کارا باخ آذربائیجان کا علاقہ ہے آذربائیجان کے صدر کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی زمینوں کی واپسی کے لیے 30 سال انتظار کیا ہے اور ہم یہ علاقہ واپس لے کر رہیں گےاور آرمینیی فوج کی واپسی تک کاروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

● آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ۔

● پاکستان اور ترکی۔🇹🇷🇵🇰

●پاکستان اور ترکی نے آذربائیجان کی حمایت کر دی۔ ترک صدر طیب اردوان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آرمینیا نگورنو کارا باخ کا علاقہ چھوڑنا ہو گا۔ ●آرمینیا سے جنگ میں آذربائیجان کی مکمل حمایت کرنے پر پاکستان میں آذری سفیر علی علی زادہ نے اظہار شکر کیا ہے۔

آذربائیجان کے سفیر۔

علی علی زادہ

پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر علی علی زادہ نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ کے ذریعے آزاد کرائے گئے علاقوں کی تفصیلات کے ساتھ نقشہ بھی شیئر کیا ہے۔ علی علی زادہ نے بتایا کہ آذربائیجان نے آرمینیا کے قبضے سے ایک شہر، ایک بستی اور34 گاوں آزاد کرالیے ہیں۔

آذربائیجان کی کامیابی کی وجہ۔

آذربائیجان کئ کامیابیوں کی بڑی وجہ اسرائیل اور ترکی سے حاصل کردہ جدید اسلحہ ہے۔

●روس کی صلاح کی پشکش۔

دونوں وزرائے خارجہ نے روسی صدر کی دعوت پر مزاکرات کیے تھے مزاکرات کے باوجود دونوں کے درمیان جنگ بندی نہیں ہو سکی۔

جنگ بندی کا اعلان۔

متحدہ یورپی یونین ، روس اور ایران نے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ آذربائیجان نے جنگ بندی کے لیے آرمینیا سے متنازعہ علاقے نگورنو کارا باخ سے انخلا کا وقت دینے کی شرط رکھ دی ۔ آرمینیا نے سیز فائر پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ سیز فائر پر عمل درآمد کے چند گھنٹے بعد ہی کارا باخ کے دارالحکومت میں 7 دھما کے ہوئے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

Leave a comment