● فلسطین، اسرائیل تنازعہ🇪🇭🇮🇱
فلسطین دنیا کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان تھا اب اس کے بیشتر حصے پر اسرائیل نے ریاست قائم کر لی ہے۔1948سے پہلے یہ علاقہ فلسطین کہلاتا تھا۔اس کا دارالحکومت بیت المقدس تھاجس پر 1967میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔بیت المقدس کو اسرائیل یروشلم کہتے ہیں اور یہ شہر یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔
● اسرائیل بحرین تعلقات پہلے کیا تھے

اسرائیل اور بحرین کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں دونوں ممالک کے درمیان کوئی سفارتی یا معاشی تعلق نہیں تھا بیش تر عرب ممالک کی طرح بحرین اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا تھا بلکہ فلسطینی لوگوں کی آزاد مملکت قایم کرنے کےحق کو تسلیم کرتا تھا۔اس کے باوجود بھی 1990 میں ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی گی تھی۔
●مشرق وسطی
بہت ہی کم مدت میں امریکہ نے مشرق وسطی میں دو تاریخی معاہدوں میں اہم کردار ادا کیا ہے پہلا معاہدہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہوا تھا دوسرا معاہدہ اسرائیل اور بحرین کے درمیان ہوا ہے۔

● تقریب کے میزبان
وائٹ ہاوس میں منعقد اس تاریخی معاہدے پر دستخط کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے وہ اس تقریب کے میزبان تھے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ” ان معاہدوں سے پورے خطے میں جامع امن کے قیام کی بنیاد پڑے گی “اس موقع پر صدر ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو ، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبد الطیف الزیانی بھی موجود تھے۔

●دو طرفہ تعاون
بحرین اور اسرائیل نے معمول کے تعلقات قائم کرنے کے لیے گزشتہ ماہ قائم ہونے والے امن معاہدے کو باضابطہ منظوری دیتے ہوئے دو طرفہ تعاون کے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ پر اتوار کے روز منامہ میں دستخط کر دیئے ہیں ۔
●منامہ میں احتجاج

ان معاہدوں پر دستخط پر بحرینی شہریوں نے ناراضگی کا اظہار کیا اور اسرائیلی وفد کے دورے اور طے پانے والے معاہدوں کے خلاف منامہ میں احتجاج کیا گیا۔
●اسرائیلی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری اعلان میں کہا گیا ہے کہ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں تاریخی لمحات کا مشاہدہ ہوا ہے دونوں ممالک کے مابین وسیع پیمانے کے سفارتی تعلقات کے آغاز کے لیے مشترکہ ضابطہ مطابقت پر دستخط ہو گئے ہیں۔ ●بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف بن راشد الزیانی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وہ امید رکھتے ہیں دونوں ملک ہر شعبے میں معنی خیز تعاون کریں گے۔انھوں نے خطے میں امن کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل تجویز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ●اس تقریب کے دوران متعدد دیگر معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ان میں تجارت، فضائی خدمات ، ٹیلی کمیونیکیشن ، مالیات، بینکنگ اور زراعت شامل ہے ۔
●اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چوتھا ملک
بحرین مشرق وسطی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چوتھا ملک ہے اسرائیل اور بحرین نے باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات قایم کر لیے ہیں جس نے 1948میں قایم ہونے والے ملک اسرائیل کو پیش تر عرب ممالک کی طرح اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا تھا اب بحرین نے اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا ہے بحرین سے پہلے متحدہ عرب امارات ، مصر ، اور اردن اسرائیل کے ساتھ تعلقات قایم کر چکے ہیں ۔

●فلسطینی عوام کا ردعمل
جب بحرین کی جانب سے معاہدے کا اعلان کیا گیا تو احتجاج فلسطین کے وزارت خارجہ نے بحرین سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اس کے علاوہ فلسطینی رہنماوں نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے ایسے معاہدوں کی سخت مخالفت کی ہے ۔فلسطینی قیادت نے کہا ہے کہ ان اقدامات سے فلسطینی عوام کے قومی حقوق اور عرب امارات کو خطرہ لاحق رہے گا ۔
●ایران ،ترکی رد عمل
ایران اور ترکی نے مشرق وسطی کے ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اس پیش رفت پر سخت اعتراض کیا ہے اور اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔