●ہری سنگھ 1925
ہری سنگھ 1925 میں گدی نشین بنا جسے قادیانی حمایت حاصل تھی اور یہ مسلمانوں کا دشمن تھا ہری سنگھ اس ڈوگر خاندان سے تعلق رکھتا تھا جو گزشتہ سو سال سے مسلمانوں پر ظلم وجبر کرتا چلا آرہا تھا ۔کماتے مسلمان اور کھاتے ڈوگر حکمران تھے۔ ●1929میں شیخ عبداللہ نے ریڈنگ روم تنظیم اور اے آر ساغر نے ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن بنائی ۔ ●1931 میں علامہ اقبال کی سرپرستی میں مسلمان وفد مہاراجہ ہری سنگھ اور اس کے وزیر اعظم ہری کرشن کول سے مذاکرات کے لیے ملے جو کہ ناکام ہوئے سیالکوٹ سے کشمیر چلو ، کشمیر چلو تحریک شروع ہوئی اس طرح تحریک آزادی کشمیر 1931 میں مکمل شروع ہوئی۔
●پہلی مسجد شہید
1931میں پہلی مسجد ریاستی میں شہید ہوئی کوٹلی میں نماز جمعہ پر پہلی بار پابندی لگائی گئی ایک ہندو نے قرآن کی بے حرمتی کی عبدالقادر نامی مسلمان نے احتجاج میں جلسے کیے جس پر وہ گرفتار ہوا ۔پھر مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا 13 جولائی کو شہدائے کشمیر اسی قتل عام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ●1933 میں جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد 1933 میں سری نگر پتھر مسجد میں جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی ۔شیخ عبداللہ اس کے صدر اور چوہدری غلام عباس اس کے جنرل سیکرٹری بننے ۔
●برصغیر میں آزادی کی تحریکیں
برصغیر میں جیسے ہی آزادی کی تحریکیں شروع ہوئیں تو مسلمان بھی قائداعظم کی قیادت میں ایک علہیدہ ملک کے قیام کے لیے سروں پر کفن باندھ کر میدان میں آگئے ۔اس موقع پر پاکستان کے قیام کے لیئے کشمیر کے مسلمانوں نے بھی تاریخ ساز قربانیاں دیں۔ ●27 اکتوبر بھارت کا قبضہ وحملہ

27 اکتوبر وہ سیاہ دن جب بھارت نے ریاست جموں کشمیر پر قبضہ وحملہ کے لیئے فوجیں داخل کی تھیں تقسیم ہند اور ریاستوں کے الحاق کا جو فارمولہ واضع کیا گیا تھا اس کی رو سے ریاست جموں کشمیر کا الحاق صرف پاکستان سے ہی ہو سکتا تھا اس لیئے کہ ریاست کی اکثرتی آبادی مسلمان تھی ریاست کے باشندوں کے جغرافیائی ولسانی رشتے ناطے بھی پاکستان سے ملتے تھے سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ریاستی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ اعادہ کر چکی تھی ۔انگریز و ہندو جو پاکستان کے معاملے میں پہلے ہی بد نیت تھے ۔انھوں نے جموں کشمیر پر حملے اور قبضے کا فیصلہ کر لیا۔


27 اکتوبر 1947 کو رات کی تاریکی میں بھارت نے اپنی فوج جموں کشمیر میں داخل کر دی مہاراجہ ہری سنگھ نے خود گولی چلا کر کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کا آغاز کیا جیسے ہی بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموں کشمیر میں داخل کیں کشمیری مسلمان ڈنڈے ، پرانی بندوقیں اٹھائے میدان جہاد میں کود پڑے اور تمام تر ظلم کے باوجود نہتے کشمیریوں نے ہزاروں بھارتی فوجیوں ٹینکوں ، طیاروں ، توپوں اور رائل انڈین ایر فورس کو شکست دی اور بڑا علاقہ واگزار کروالیا اب مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان بھارت کے زیر تسلط خطہ کی آزادی کے لیے تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں وہ ان ظالموں سے اپنے آپ کو اور مقبوضہ کشمیر کو آزادی دلانا چاہتے ہیں کشمیر میں اس وقت بھارتی مظالم انتہا پر ہیں وہاں ایک سال سے کرفیو ہے کاروبار زندگی ختم ہو گیا ہے اس وقت کرفیو کے باوجود پوری آبادی آزادی کی صدائوں سے گونج رہی ہے۔ ●27 اکتوبر کو آزاد کشمیر اور دنیا بھر کے کشمیری عوام ،مقبوضہ کشمیر، اور پاکستان بھارت کی جانب سے قبضے کے 73 برس پورے ہونے کے خلاف یوم سیاہ منا رہے ہیں۔