ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے جسے بجلی ، گیس، پانی، ٹرانسپورٹ، کچرا اٹھانا وغیرہ لیکن کراچی میں ایسا نہیں ہے کوئی بھی ان ذمہ داریوں کو قبول کرنے تیار نہیں ہے سب ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈالتے ہیں اور ایسا ہوتے ہوتے کراچی تباہ حال ہو گیا آخر اس کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے یہ سوال ہر کوئی ایک دوسرے سے پوچھتا ہے لیکن اس کا جواب کسی کو نہیں معلوم ۔کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے کراچی اپنی تمام تر خوبیوں اور رعنائیوں کے باوجود مسائل کا شکار ہے نہ صرف مسائل کا شکار ہے بلکہ اس کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے وجوہات تو کئی ہیں لیکن اصل وجہ بے سرو سامانی ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے یہ شہر صنعت وتجارت اور روزگار کا سب سے بڑا مرکز ہے لوگ روز گار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں روز گار تو مل جاتا ہے لیکن پانی ، بجلی، گیس سے محروم رہتے ہیں کراچی کی تباہی ایک دو سال میں نیں ہوئی بلکہ کراچی کو تباہی کے دہانے تک لانے میں کئی سال لگے ہیں کراچی کی بد قسمتی ہے کہ یہ شہر ہر حکومت میں سیاست کی نظر رہا ہے اور ہر حکومت نےاس کو سیاسی اختلاف کی وجہ سے نظر انداز کیا ہے کبھی کسی حکومت نے کام نہیں کیا ہے کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور پاکستان کا سارا معاشی دارو مدار کراچی پر ہے پاکستان کی ساری تجارت کراچی پورٹ سے ہوتی ہےاس لیے کراچی کی اہمیت دوسرے شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔کراچی کو معاشی اعتبار سے تو اہمیت دی جاتی ہے لیکن اس کے مسائل پر توجہ نیں دی گئی اس وجہ سے یہ مسائل کا گڑھ بن گیا ہے اب تو کراچی کو دنیا کے بد ترین ٹرانسپورٹ سٹم کے حامل شہر کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ ●کراچی کے مسائل اور احتجاج۔
●بجلی کا مسئلہ اور احتجاج۔



کراچی میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نیا نہیں ہے پہلے لوڈشیڈنگ کم ہوتی تھی اب زیادہ ہوتی ہے اور اس کا مسئلہ حل ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آرہا ہے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور اسد عمر نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی لیکن پھر بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور پوری گرمیاں کراچی کے شہری لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دو چار رہے ۔کراچی میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ کراچی کے شہریوں کا مطالبہ▪
کراچی کے شہریوں نے اوور بلنگ اور بجلی کی بندش پر وفاق اور سپریم کورٹ سے کے الیکٹرک کے معاملات پر نوٹس لینے پر زور دیا ہے۔
اکتوبر 2020۔13
سندھ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی۔
●اور بلنگ کا مسلہ : کے الیکٹرک نے اوور بلنگ کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا ہے جس سے کراچی کی عوام پریشان ہے ۔ ●گورنر سندھ : نے کے الیکٹرک کی زائد بلنگ آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ●سیاسی جماعتوں کا احتجاج: عوام کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے بھی کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کیا تھا جس میں جماعت اسلامی ، پاک سر زمین پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم شامل ہیں۔کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف سب متحد ہو گئے لیکن کے الیکٹرک کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور احتجاج بھی کام نہ آیا اور کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جوں کی توں رہی۔
●گیس کی بندش کا مسئلہ۔

کراچی میں گیس کی بندش بھی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگ احتجاج کرتے نظر آتے ہیں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی گیس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔
●پانی کا مسلہ۔


کراچی میں پانی کا مسلہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کراچی کے زیادہ تر علاقوں میں پانی نہیں آتا پہلے کراچی میں چند علاقوں کے علاوہ پورے شہر میں پانی آتا تھا اب یہ حال ہے چند علاقوں میں پانی آتا ہے اور پورے شہر میں پانی کی عدم فراہمی ہے ۔پانی کی قلت کی وجہ سے کراچی کے شہری کو سخت گرمی میں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور وہ مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں کراچی میں پانی کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ہر روز 200 سے 300 ٹینکر شہر کے مختلف حصوں میں پانی مہیا کرتے نظر آتے ہیں۔کراچی میں پانی کی قلت کی وجہ سے کئی ملین رہائشی مسائل کا شکار ہیں۔
●ٹینکر مافیا۔
کراچی میں ٹینکر مافیا کی حکمرانی ہے اب کراچی کے رہائشیوں کے لیے مفت پانی خواب ہو چکا ہے کراچی میں پانی بیچنے والے گروہ نہایت منظم ہیں اور لوگوں کو پینے کا پانی بیچ کر پیسہ بنانے میں مصرف ہیں۔

●کچرے کے ڈھیر۔کراچی کی آبادی دو کروڑ سے زیادہ ہے اور شہر سے روزانہ 15 ہزار ٹن کچرا نکلتا ہے جس میں سے 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا اٹھایا جاتاہے ۔کراچی میں صفائی کا مسئلہ بد انتظامی کا نتیجہ ہے شہر میں کچرے کو تلف کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں۔کراچی کے شہری اس گندگی سے بھی پریشان رہتے ہیں۔


●پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل ۔ ہر بڑے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گھر سے دفتر جانے ، مزدور ، کارخانوں میں کام کرنے والے عرض کہ ہر وہ شخص جس کے پاس اپنی ٹرانسپورٹ نہ ہو وہ بس میں سفر کرتا ہے اور یہ ان لوگوں کا روزانہ کا معمول کا حصہ ہوتا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں صرف بیس ہی نہیں شامل ہوتیں بلکہ ضرورت کے مطابق دوسرے متبادل بھی ہوتے ہیں۔کراچی ایسا شہر ہے جہاں پر لوگ روزگار کی تلاش میں آتے ہیں کراچی کی آبادی کا بڑا حصہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور ان کی آمدورفت کا ذریعہ پبلک ٹرانسپورٹ ہوتی ہے۔


پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے ٹرانسپورٹ کے مسائل اور ان کے حل کے لیے حکومت نے کوئی عملی اقدامات ابھی تک شروع نہیں کیے ہیں ۔کراچی کی 2 کروڑ سے زائد آبادی ہے ۔اور ان کی سفری سہولیات کے لیے ٹرانسپورٹ کی موجودہ تعداد بہت ہی کم ہے ۔کراچی کی سڑکوں پر مزدا ، بس اور کوچز نظر آتی ہیں اور لوگ اسی کو ترجیع بھی دیتے ہیں اس ٹرانسپورٹ کے مسافر طلبہ و طالبات بھی ہوتے ہیں ۔گنجائش سے زیادہ سواریاں ہوتی ہیں جب بس بھر جاتی ہے تو بسوں کئ چھت پر بھی لوگ سفر کرتے ہیں ۔ 12 سال سے صوبہ سندھ میں پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے انھوں نے کئی بار کہا ہے ہم نئی بسیں لا رہے ہیں انھوں نے یہ وعدے تو کیے ہیں لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔